مواد پر جائیں مواد پر جائیں
دخل

رن ریٹ کی ۵ غلطیاں نئے شائقین کرتے ہیں

کرکٹ میں رن ریٹ نکالنے کا بنیادی طریقہ بنائے گئے رنز کو کھیلے گئے اوورز سے تقسیم کرنا ہے، جبکہ نیٹ رن ریٹ میں اپنی بیٹنگ رفتار سے حریف کی بیٹنگ رفتار منہا کی جاتی ہے۔ یہ حساب پاکستان سپر لیگ، آئی سی س...

22 اکتوبر، 2026 5 min read
رن ریٹ کی ۵ غلطیاں نئے شائقین کرتے ہیں
❦

رن ریٹ کی ۵ غلطیاں نئے شائقین کرتے ہیں

کرکٹ میں رن ریٹ نکالنے کا بنیادی طریقہ بنائے گئے رنز کو کھیلے گئے اوورز سے تقسیم کرنا ہے، جبکہ نیٹ رن ریٹ میں اپنی بیٹنگ رفتار سے حریف کی بیٹنگ رفتار منہا کی جاتی ہے۔ یہ حساب پاکستان سپر لیگ، آئی سی سی عالمی کپ، ٹی ٹوئنٹی اور ایک روزہ مقابلوں میں ٹیموں کی کارکردگی سمجھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ رنز کا رن ریٹ ۹.۰۰ بنتا ہے، جبکہ ۴۰ اوورز میں ۲۸۰ رنز کا رن ریٹ ۷.۰۰ ہوتا ہے۔ اگر ٹیم اے نے ۳۰۰ رنز بنائے اور ۲۵۰ رنز دیے، دونوں بار ۵۰ اوورز میں، تو اس کا نیٹ رن ریٹ +۱.۰۰ ہوگا۔ آل آؤٹ ہونے پر مقررہ اوورز کا کوٹا استعمال کیا جاتا ہے، صرف کھیلے گئے اوورز کا نہیں۔ درست نتیجے کے لیے پہلے اوورز کو اعشاریہ نہیں بلکہ مکمل گیندوں میں بدلیں، پھر فارمولا لگائیں۔

Starlight Princess Super Scatter · Free demo

خلاصہ کیا ہے: رن ریٹ کیسے نکلتا ہے؟

رن ریٹ = بنائے گئے رنز ÷ کھیلے گئے اوورز۔ نیٹ رن ریٹ = ٹیم کی اوسط بیٹنگ رن ریٹ − حریفوں کے خلاف اوسط بولنگ رن ریٹ۔ مثال کے طور پر ۲۰ اوورز میں ۱۶۰ رنز بنانے والی ٹیم کا رن ریٹ ۸.۰۰ ہے؛ اگر اس نے حریف کو ۱۴۰ رنز تک محدود رکھا تو اسی میچ کا نیٹ فرق +۱.۰۰ بنتا ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے میچ میں اسکور بورڈ پر رنز، اوورز اور رن ریٹ نمایاں دکھائی دے رہے ہیں

عام شائقین کے لیے سب سے اہم فرق یہ ہے کہ رن ریٹ ایک اننگز یا ایک میچ کی رفتار بتاتا ہے، جبکہ نیٹ رن ریٹ پورے ٹورنامنٹ کی مجموعی کارکردگی ناپتا ہے۔ پاکستان سپر لیگ کے پوائنٹس ٹیبل میں کسی ٹیم کے ۶ پوائنٹس ہوں، مگر دوسری ٹیم کے بھی ۶ پوائنٹس ہوں، تو نیٹ رن ریٹ فیصلہ کن بن سکتا ہے۔ اسی لیے صرف جیت کی تعداد دیکھنا کافی نہیں؛ جیت کا مارجن، شکست کی شدت اور اوورز کا استعمال بھی جدول پر اثر ڈالتا ہے۔

حساب کا محفوظ طریقہ یہ ہے کہ پہلے ہر میچ کے اعداد الگ لکھیں، پھر پورے مقابلے کے مجموعی رنز اور اوورز جمع کریں۔ ایک عام غلطی یہ ہے کہ ٹیم کے مجموعی رنز کو صرف جیتے ہوئے میچوں کے اوورز سے تقسیم کر دیا جاتا ہے، حالانکہ نیٹ رن ریٹ میں مکمل شدہ تمام متعلقہ اننگز شامل ہوتی ہیں۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے مقابلہ جاتی ضوابط اور مریم ویبسٹر کرکٹ لغت میں رن ریٹ کو اوور کے حساب سے رنز بنانے کی رفتار کے طور پر سمجھایا جاتا ہے۔

اس موضوع کو محفوظ رکھنے کے لیے کرکٹ گفتگو پر کرکٹ اسکور کارڈ پڑھنے کا مکمل طریقہ بھی دیکھیں، کیونکہ درست اسکور کارڈ کے بغیر درست نیٹ رن ریٹ ممکن نہیں۔

اگر آپ حساب کو فوری طور پر سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ مختصر فارمولا پہلے نوٹ کر لیں۔

مزید جانیں

کھلاڑی اور شائقین اسکور بورڈ پر کیا دیکھتے ہیں؟

اسکور بورڈ پر رن ریٹ عموماً موجودہ اوور تک بنائے گئے رنز کو مکمل کیے گئے اوورز سے تقسیم کرکے دکھایا جاتا ہے، جبکہ مطلوبہ رن ریٹ ہدف کے باقی رنز کو باقی اوورز سے تقسیم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر بھارت نے ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ رنز بنائے تو اس کی اوسط رفتار ۹.۰۰ رنز فی اوور ہے؛ پاکستان کو ۱۰ اوورز میں ۱۰۰ رنز درکار ہوں تو مطلوبہ رن ریٹ ۱۰.۰۰ ہوگا۔

یہاں اعشاریہ اوور سب سے بڑا دھوکا دے سکتا ہے۔ اسکور کارڈ میں ۱۷.۴ اوور کا مطلب ۱۷ اعشاریہ ۴ اوور نہیں، بلکہ ۱۷ اوور اور ۴ گیندیں ہے۔ چونکہ ایک اوور میں ۶ گیندیں ہوتی ہیں، ۱۷.۴ اوور کو حساب میں ۱۷ + ۴÷۶، یعنی ۱۷.۶۶۶ اوور لکھنا چاہیے۔ ۱۲۰ رنز کو ۱۷.۴ سے تقسیم کرنا غلط نتیجہ دے گا؛ درست حساب ۱۲۰ کو ۱۰۶ گیندوں سے ضرب دے کر ۶ سے تقسیم کرنے یا ۱۲۰ ÷ ۱۷.۶۶۶ کرنے سے ہوگا، جو تقریباً ۶.۷۹ رنز فی اوور بنتا ہے۔

یہ عملی فرق براہ راست جدول پر اثر ڈالتا ہے، خاص طور پر جب سری لنکا، بنگلہ دیش، پاکستان یا آسٹریلیا جیسے گروپ کی ٹیمیں چند اعشاری پوائنٹس کے فاصلے پر ہوں۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے قواعد میں بھی اوور کو گیندوں کے مجموعے کے طور پر سمجھنا ضروری ہے؛ اس لیے ۱۹.۵ اوور کو ۱۹.۵ اعشاریہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ کرکٹ گفتگو کی ڈک ورتھ لوئس طریقہ کار کی آسان وضاحت اس نکتے کو بارش والے میچوں میں مزید واضح کرتی ہے۔

ایک میچ کا سادہ حساب

فرض کریں انگلینڈ نے ۵۰ اوورز میں ۳۸۵ رنز بنائے اور نیوزی لینڈ نے جواب میں ۵۰ اوورز میں ۳۴۰ رنز بنائے۔ انگلینڈ کی بیٹنگ رن ریٹ ۳۸۵ ÷ ۵۰ = ۷.۷۰، جبکہ نیوزی لینڈ کی ۳۴۰ ÷ ۵۰ = ۶.۸۰ ہوگی۔ انگلینڈ کے لیے اس مقابلے کا نیٹ فرق +۰.۹۰ اور نیوزی لینڈ کے لیے −۰.۹۰ ہوگا، کیونکہ دونوں ٹیموں نے ایک دوسرے کے خلاف برابر اوورز کھیلے ہیں۔

مگر ٹورنامنٹ کا نیٹ رن ریٹ صرف ہر میچ کے نیٹ فرق جمع کرنے سے نہیں نکلتا۔ مثال کے طور پر اگر ایک ٹیم نے پہلے میچ میں ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ اور دوسرے میں ۱۰ اوورز میں ۹۰ رنز بنائے، تو مجموعی بیٹنگ رن ریٹ (۱۸۰ + ۹۰) ÷ (۲۰ + ۱۰) یعنی ۹.۰۰ ہوگا۔ +۱.۰۰ اور −۱.۰۰ جیسے میچ وار نمبروں کو سادہ اوسط کرنا بعض اوقات غلط نتیجہ دیتا ہے، کیونکہ ہر میچ میں اوورز کی تعداد مختلف ہوسکتی ہے۔ یہی وہ عملی نکتہ ہے جسے بہت سے مختصر گائیڈ نظر انداز کر دیتے ہیں۔

سب سے زیادہ اثر ڈالنے والی ۳ چیزیں کون سی ہیں؟

نیٹ رن ریٹ پر سب سے زیادہ اثر مجموعی بنائے گئے رنز، مجموعی استعمال شدہ اوورز، اور حریف کو دیے گئے رنز کے ساتھ بولنگ کیے گئے اوورز کا ہوتا ہے۔ وکٹوں کی تعداد خود فارمولے میں شامل نہیں ہوتی؛ اصل وزن رنز اور اوورز کا ہے۔ اس لیے ۱۰ وکٹ سے جیت اور ۱ رن سے جیت دونوں کو رن ریٹ کے لحاظ سے میچ کے رنز اور وقت کے ذریعے پرکھا جاتا ہے۔

۱۔ مجموعی رنز اور اوورز

ٹورنامنٹ میں ٹیم کا فارمولا یوں لکھا جاتا ہے:

  • مجموعی بیٹنگ رن ریٹ = تمام بنائے گئے رنز ÷ تمام بیٹنگ اوورز
  • مجموعی بولنگ رن ریٹ = تمام دیے گئے رنز ÷ تمام بولنگ اوورز
  • نیٹ رن ریٹ = مجموعی بیٹنگ رن ریٹ − مجموعی بولنگ رن ریٹ

فرض کریں پاکستان نے تین میچوں میں بالترتیب ۱۶۰، ۱۸۰ اور ۱۴۰ رنز بنائے، اور ہر بار ۲۰ اوورز کھیلے۔ مجموعی بیٹنگ رن ریٹ ۴۸۰ ÷ ۶۰ = ۸.۰۰ ہوگا۔ اگر پاکستان نے ان میچوں میں ۱۵۰، ۱۷۰ اور ۱۵۵ رنز دیے تو بولنگ رن ریٹ ۴۷۵ ÷ ۶۰ = ۷.۹۱ ہوگا، اور نیٹ رن ریٹ تقریباً +۰.۰۸ بنتا ہے۔ آخری اعشاریہ میں گولائی کا طریقہ بھی اہم ہے؛ حساب کے دوران زیادہ اعشاریے رکھیں اور صرف آخر میں دو اعشاریوں تک گول کریں۔

۲۔ آل آؤٹ ہونے کا خاص اصول

اگر ۵۰ اوورز کے میچ میں ٹیم ۳۰ اوورز میں ۱۵۰ رنز پر آل آؤٹ ہوجائے، تو اس کی بیٹنگ رن ریٹ ۱۵۰ ÷ ۵۰ = ۳.۰۰ شمار ہوگی، نہ کہ ۱۵۰ ÷ ۳۰ = ۵.۰۰۔ اسی طرح ۲۰ اوورز کے ٹی ٹوئنٹی میں ۱۵ اوورز کے اندر مکمل طور پر آؤٹ ہونے والی ٹیم کے لیے مقررہ ۲۰ اوورز کا کوٹا استعمال ہوگا۔ اس اصول کا مقصد یہ ہے کہ جلد آل آؤٹ ہونے والی ٹیم مصنوعی طور پر تیز رن ریٹ حاصل نہ کر سکے۔

یہاں ایک کم بیان کیا جانے والا فرق بھی ہے: اگر ٹیم ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے جیت جائے، تو اس کی بیٹنگ کے لیے عموماً اتنے اوورز شمار کیے جاتے ہیں جتنے ہدف حاصل کرنے تک استعمال ہوئے، نہ کہ پورے مقررہ اوورز۔ مثال کے طور پر آسٹریلیا نے ۲۰ اوورز کے ہدف کا تعاقب ۱۳ اوورز میں مکمل کیا تو جیتنے والی اننگز کی رفتار ۱۳ اوورز کے حساب سے بنے گی۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے ہدف کو بہت پہلے حاصل کرنا نیٹ رن ریٹ میں نمایاں فائدہ دے سکتا ہے۔

۳۔ ہدف کا فرق اور جیت کی رفتار

صرف زیادہ رنز بنانا کافی نہیں؛ حریف کو کم رنز پر روکنا اور ہدف جلد حاصل کرنا بھی اہم ہے۔ ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ رنز بنا کر حریف کو ۱۷۰ تک محدود کرنا ایک مثبت فرق دیتا ہے، مگر ۱۸۰ کا ہدف ۱۸ویں اوور میں حاصل کرنے والی ٹیم کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ رن ریٹ فائدہ پیدا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کپتان آخر کے اوورز میں رسک، وکٹوں اور مطلوبہ رن ریٹ کے درمیان توازن قائم کرتے ہیں۔

کرکٹ تجزیہ کار لیپ ٹاپ پر پاکستان سپر لیگ کے نیٹ رن ریٹ کی جدول کا مطالعہ کر رہا ہے

پوائنٹس برابر ہونے کی صورت میں نیٹ رن ریٹ اکثر پہلے ٹائی بریکرز میں شامل ہوتا ہے، لیکن ہر ٹورنامنٹ کے قواعد یکساں نہیں ہوتے۔ بعض مقابلوں میں باہمی مقابلہ، جیت کی تعداد یا بونس پوائنٹس پہلے دیکھے جاسکتے ہیں۔ آئی سی سی کے مقابلہ جاتی قواعد میں متعلقہ ٹورنامنٹ کی مخصوص شرائط دیکھنا زیادہ محفوظ ہے؛ ایک فارمولہ ہر ایونٹ پر خودکار طور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

اس فرق کو جدول میں سمجھنے کے لیے پاکستان سپر لیگ پوائنٹس ٹیبل اور ٹائی بریکرز ملاحظہ کریں، جہاں رنز، اوورز اور پوائنٹس کو ایک ساتھ پڑھنے کا طریقہ دیا گیا ہے۔

اعداد کو عملی فیصلے میں بدلنے کے لیے یہ تین مرحلے اپنائیں۔

  1. پہلے اپنے تمام میچوں کے بنائے اور دیے گئے رنز جمع کریں۔
  2. پھر مکمل شدہ اوورز کو گیندوں میں تبدیل کرکے مجموعی اوورز نکالیں۔
  3. آخر میں بیٹنگ رن ریٹ سے بولنگ رن ریٹ منہا کریں اور نتیجہ دو اعشاریوں تک گول کریں۔

اگر آپ جدول کے اعداد کو خود جانچنا چاہتے ہیں، تو اگلا مختصر حوالہ مفید رہے گا۔

مزید جانیں

مشکل صورتوں میں کیا کرنا چاہیے؟

بارش، کم کیے گئے اوورز، ڈک ورتھ لوئس اسٹرن، ٹائی اور بغیر نتیجے والے میچ نیٹ رن ریٹ کو معمول کے مقابلے میں پیچیدہ بناتے ہیں۔ بارش سے متاثرہ مقابلے میں اصل مقررہ اوورز کے بجائے نظرثانی شدہ اننگز، ہدف اور دستیاب وسائل اہم ہوسکتے ہیں۔ بغیر نتیجے کے ختم ہونے والا میچ عام طور پر نیٹ رن ریٹ میں شامل نہیں کیا جاتا، مگر حتمی فیصلہ ٹورنامنٹ کے ضابطے سے کیا جاتا ہے۔

بارش سے متاثرہ میچ

فرض کریں ٹیم اے نے ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ رنز بنائے، پھر بارش کے باعث ٹیم بی کی اننگز ۱۵ اوورز تک محدود کردی گئی۔ اگر ڈک ورتھ لوئس اسٹرن کے تحت نیا ہدف ۱۵ اوورز میں ۱۵۰ رنز مقرر ہوا اور ٹیم بی نے ۱۴ اوورز میں ۱۵۱ رنز بنا کر مقابلہ جیت لیا، تو نیٹ رن ریٹ کے لیے متعلقہ ریکارڈ شدہ یا ضابطے میں مقرر کردہ ایڈجسٹ شدہ اعداد دیکھے جائیں گے۔ صرف ۱۸۰ کو ۲۰ اور ۱۵۱ کو ۱۴ سے تقسیم کرکے نتیجہ نکالنا ہر صورت میں درست نہیں۔

ڈک ورتھ لوئس اسٹرن کا نظام اسکور، وکٹوں اور باقی اوورز میں دستیاب وسائل کے تناسب کو دیکھتا ہے۔ اسی لیے اس کے نتیجے میں ایک نظرثانی شدہ ہدف ملتا ہے، مگر نیٹ رن ریٹ کا عملی اطلاق مقابلے کی شرائط میں الگ سے بیان ہوسکتا ہے۔ ڈک ورتھ لوئس اسٹرن طریقہ کار کی سرکاری وضاحت میں بنیادی اصول یہ ہے: “ہدف دستیاب وسائل کے مطابق نظرثانی کیا جاتا ہے۔” اس جملے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بار اصل اسکور ہی جدول میں استعمال ہوگا۔

ٹائی یا بغیر نتیجے کے میچ

ٹائی میچ میں دونوں ٹیموں کے رنز اور اوورز ریکارڈ رہتے ہیں، مگر پوائنٹس اور نیٹ رن ریٹ کا اثر مقابلے کے ضابطے پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر میچ بارش یا خراب موسم کے باعث بغیر نتیجے کے ختم ہو، تو عموماً دونوں ٹیموں کو پوائنٹ ملتا ہے اور نیٹ رن ریٹ تبدیل نہیں ہوتا۔ تاہم ترک کیے گئے، کم اوورز والے اور دوبارہ شروع کیے گئے مقابلوں کے لیے الگ شرائط ہوسکتی ہیں۔

بارش کے بعد کرکٹ میدان میں ڈھکا ہوا پچ، اسکور بورڈ پر نظرثانی شدہ اوورز دکھائے جا رہے ہیں

یہاں سب سے محفوظ عملی عادت یہ ہے کہ ٹیلی ویژن گرافکس کے بجائے مکمل اسکور کارڈ، مقابلے کی شرائط اور سرکاری پوائنٹس جدول کو ملایا جائے۔ مختلف ویب سائٹس کبھی رن ریٹ کو دو اعشاریوں، تین اعشاریوں یا عارضی لائیو اعداد کے ساتھ دکھاتی ہیں، اس لیے معمولی فرق نظر آسکتا ہے۔ اگر کوئی عدد غیر معمولی لگے، تو پہلے دیکھیں کہ میچ مکمل ہوا تھا، ہدف کا تعاقب کتنے اوورز میں ختم ہوا، اور کیا اوورز ۱۷.۴ جیسے گیندوں والے فارمیٹ میں درج ہیں۔

مشکل میچوں کے لیے کرکٹ گفتگو کی بارش سے متاثرہ کرکٹ میچ کے قواعد دیکھیں، تاکہ ڈک ورتھ لوئس اسٹرن اور نیٹ رن ریٹ کو ایک ہی چیز نہ سمجھا جائے۔

اس حصے کا عملی نچوڑ یہ ہے کہ جلدی میں موبائل اسکور بورڈ کا ایک عدد نقل نہ کریں؛ مکمل میچ کی حیثیت، مقررہ اوورز اور مقابلے کے ضابطے کی تصدیق پہلے کریں۔

فیصلہ: درست نیٹ رن ریٹ کے لیے کون سا طریقہ بہتر ہے؟

درست طریقہ یہ ہے کہ ہر میچ کے رنز اور گیندیں الگ محفوظ کریں، تمام مکمل اننگز کو ایک ساتھ جمع کریں، آل آؤٹ ٹیم کے لیے مقررہ اوورز کا کوٹا لگائیں، اور ہدف کا تعاقب کرنے والی جیت میں استعمال شدہ اوورز کو ضابطے کے مطابق شمار کریں۔ وکٹیں فارمولے کا براہ راست حصہ نہیں، جبکہ بارش، ڈک ورتھ لوئس اسٹرن اور بغیر نتیجے کے میچ الگ قواعد پیدا کرسکتے ہیں۔ +۱.۰۰ نیٹ رن ریٹ کا مطلب ہے کہ ٹیم کی مجموعی رنز بنانے کی رفتار حریفوں کے خلاف اس کی رنز دینے کی رفتار سے ایک رن فی اوور زیادہ رہی؛ یہ جیت کی ضمانت نہیں۔

میچ دیکھتے وقت پہلے موجودہ رن ریٹ، پھر مطلوبہ رن ریٹ، اور آخر میں ٹورنامنٹ کا نیٹ رن ریٹ دیکھیں۔ مثال کے طور پر ۱۶ اوورز میں ۱۴۴ رنز کا موجودہ رن ریٹ ۹.۰۰ ہے، مگر اگر ۴ اوورز میں ۶۰ رنز درکار ہوں تو مطلوبہ رن ریٹ ۱۵.۰۰ ہوگا؛ دونوں اعداد الگ سوالوں کے جواب ہیں۔ کرکٹ گفتگو کا مقصد یہی ہے کہ پاکستان سپر لیگ، آئی سی سی مقابلوں اور روزانہ کے میچ جائزوں میں شائقین نمبروں کو صرف دیکھیں نہیں، سمجھیں بھی۔ آخرکار بہترین تجزیہ وہی ہے جس میں فارمولا، اسکور کارڈ اور مقابلے کے اصل قواعد تینوں ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہوں۔

صحیح اعداد کے ساتھ اپنی اگلی میچ پیش گوئی اور جدول کا تجزیہ زیادہ ذمہ داری سے کریں۔

مزید جانیں

اکثر پوچھے گئے سوالات

سوال: کرکٹ میں رن ریٹ کیا ہوتا ہے؟

جواب: رن ریٹ ایک اوور میں بنائے گئے اوسط رنز کو کہتے ہیں۔ اسے بنائے گئے کل رنز کو کھیلے گئے اوورز سے تقسیم کرکے نکالا جاتا ہے، مثلاً ۲۰ اوورز میں ۱۶۰ رنز کا رن ریٹ ۸.۰۰ ہے۔ اگر اسکور کارڈ میں ۱۷.۴ اوور لکھا ہو تو اسے ۱۷ اوور اور ۴ گیندیں سمجھیں، نہ کہ ۱۷.۴ اعشاریہ اوور۔

سوال: کرکٹ میں رن ریٹ کیسے نکالتے ہیں؟

جواب: رن ریٹ نکالنے کے لیے کل رنز کو مکمل کیے گئے اوورز سے تقسیم کریں۔ ۱۵ اوورز میں ۱۲۰ رنز ہوں تو حساب ۱۲۰ ÷ ۱۵ = ۸.۰۰ ہوگا۔ اعشاریہ اوور کی صورت میں گیندوں کو پہلے چھ سے تقسیم کریں، پھر اوورز میں تبدیل کرکے فارمولا لگائیں۔

سوال: نیٹ رن ریٹ اور رن ریٹ میں کیا فرق ہے؟

جواب: رن ریٹ صرف ایک اننگز یا ٹیم کی رنز بنانے کی رفتار ہے، جبکہ نیٹ رن ریٹ بیٹنگ رن ریٹ میں سے حریف کی اوسط بیٹنگ رن ریٹ منہا کرتا ہے۔ اگر ٹیم کی رفتار ۸.۰۰ اور حریف کے خلاف دی گئی رنز کی رفتار ۷.۰۰ ہو تو نیٹ رن ریٹ +۱.۰۰ ہوگا۔ ٹورنامنٹ میں مجموعی رنز اور مجموعی اوورز استعمال ہوتے ہیں۔

سوال: آل آؤٹ ہونے پر نیٹ رن ریٹ کیسے شمار ہوتا ہے؟

جواب: آل آؤٹ ہونے والی ٹیم کے لیے مقررہ اننگز کے اوورز کا کوٹا استعمال کیا جاتا ہے۔ ۵۰ اوورز کے میچ میں ۳۰ اوورز پر ۱۵۰ رنز کی صورت میں حساب ۱۵۰ ÷ ۵۰ = ۳.۰۰ ہوگا، نہ کہ ۱۵۰ ÷ ۳۰۔ اس اصول سے جلد آؤٹ ہونے والی ٹیم کو مصنوعی رن ریٹ فائدہ نہیں ملتا۔

سوال: کیا وکٹیں نیٹ رن ریٹ پر اثر ڈالتی ہیں؟

جواب: وکٹوں کی تعداد نیٹ رن ریٹ کے بنیادی فارمولے میں براہ راست شامل نہیں ہوتی۔ حساب رنز اور اوورز سے بنتا ہے، اس لیے ۹ وکٹ سے جیت اور ۱ وکٹ سے جیت کا اثر رنز اور جیت مکمل کرنے کے وقت کے ذریعے آتا ہے۔ تاہم آل آؤٹ ہونے کی صورت میں مقررہ اوورز کا اصول نتیجے کو بالواسطہ متاثر کرتا ہے۔

سوال: بارش والے میچ میں رن ریٹ کیسے نکالا جاتا ہے؟

جواب: بارش والے میچ میں نظرثانی شدہ اوورز، ہدف اور مقابلے کے ضابطے کو دیکھنا ضروری ہے۔ ڈک ورتھ لوئس اسٹرن وسائل کے مطابق نیا ہدف بناتا ہے، اس لیے اصل ۲۰ اوورز کے اسکور کو کم کیے گئے میچ پر خودکار طور پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔ سرکاری اسکور کارڈ اور آئی سی سی کی متعلقہ شرائط سے حتمی عدد کی تصدیق کریں۔

سوال: کیا بغیر نتیجے والا میچ نیٹ رن ریٹ میں شامل ہوتا ہے؟

جواب: بغیر نتیجے والا میچ عموماً نیٹ رن ریٹ میں شامل نہیں کیا جاتا۔ ایسی صورت میں ٹیموں کو اکثر ایک ایک پوائنٹ ملتا ہے، مگر اصل طریقہ ٹورنامنٹ کے قواعد پر منحصر رہتا ہے۔ ترک شدہ، ٹائی اور دوبارہ شروع کیے گئے میچوں کے لیے الگ شقیں ہوسکتی ہیں، اس لیے صرف عام فارمولا دیکھ کر فیصلہ نہ کریں۔

درست حساب اور تازہ کرکٹ تجزیے کے لیے کرکٹ گفتگو سے جڑے رہیں۔

مزید جانیں

§

اس کہانی کو دریافت کرنے کا شکریہ

❦

کرکٹ گفتگو · The Archive

متعلقہ مضامین