مواد پر جائیں مواد پر جائیں
دخل

5 ایل بی ڈبلیو شرائط کا موازنہ: فیصلہ کیسے بنتا ہے؟

کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو اس وقت دیا جاتا ہے جب گیند بلے سے ٹکرائے بغیر بلے باز کے جسم سے لگے اور امپائر کے مطابق وہ گیند وکٹ سے ٹکرا جاتی۔ اس قانون کی نگرانی میریلیبون کرکٹ کلب کے قانون 36 کے تحت ہوتی ہے...

18 اکتوبر، 2026 5 min read
5 ایل بی ڈبلیو شرائط کا موازنہ: فیصلہ کیسے بنتا ہے؟
❦

5 ایل بی ڈبلیو شرائط کا موازنہ: فیصلہ کیسے بنتا ہے؟

کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو اس وقت دیا جاتا ہے جب گیند بلے سے ٹکرائے بغیر بلے باز کے جسم سے لگے اور امپائر کے مطابق وہ گیند وکٹ سے ٹکرا جاتی۔ اس قانون کی نگرانی میریلیبون کرکٹ کلب کے قانون 36 کے تحت ہوتی ہے، جبکہ بین الاقوامی میچوں میں آئی سی سی کے ڈی آر ایس ضابطے فیصلہ جانچنے میں مدد دیتے ہیں۔ بنیادی پانچ شرائط یہ ہیں: گیند نو بال نہ ہو، پہلے بیٹ سے نہ لگی ہو، گیند وکٹوں کے درمیان یا آف اسٹمپ کے باہر پچ ہو، جسمانی رابطہ وکٹ کے سامنے ہو، اور گیند اسٹمپ سے ٹکراتی ہو۔ اگر بلے باز شاٹ کھیلنے کی حقیقی کوشش کر رہا ہو تو آف اسٹمپ سے باہر پچ ہونے والی گیند پر بھی ایل بی ڈبلیو ممکن نہیں ہوتا۔ بہترین عملی طریقہ یہ ہے کہ ہر اپیل میں گیند، رابطے اور متوقع اسٹمپ ٹکراؤ کو الگ الگ جانچیں۔

روشن کرکٹ میدان میں امپائر ایل بی ڈبلیو اپیل پر انگلی اٹھاتے ہوئے، کھلاڑی پُرجوش دکھائی دے رہے ہیں

ایل بی ڈبلیو صرف گیند کے پیڈ سے لگنے کا نام نہیں؛ یہ ایک قانونی سلسلہ ہے جس میں گیند کا پچ ہونا، جسم سے ٹکرانے کا مقام، شاٹ کی کوشش اور ورچوئل ٹریکنگ سب شامل ہوتے ہیں۔ کرکٹ گفتگو پر موجود اس رہنما کا مقصد یہی ہے کہ شائقین، نئے کھلاڑی اور میچ دیکھنے والے ڈی آر ایس کے پیچیدہ فیصلے کو آسانی سے سمجھ سکیں۔ کرکٹ کے بنیادی قوانین کی مکمل رہنما

قانون کی ایک اہم باریکی یہ ہے کہ گیند اگر پہلے دستانے یا بیٹ کو چھو لے تو عام طور پر ایل بی ڈبلیو کا امکان ختم ہو جاتا ہے، لیکن دستانہ بیٹ پکڑنے والے ہاتھ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح گیند اگر نو بال ہو تو ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جا سکتا، چاہے گیند سیدھی درمیانی وکٹ سے ٹکراتی دکھائی دے۔ اس فرق کو نظرانداز کرنا مہنگا پڑتا ہے، خاص طور پر تیز رفتار ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں جہاں اپیل چند سیکنڈ میں مکمل ہوتی ہے۔

مزید وضاحت اور عملی مثالوں کے لیے یہ اگلا مرحلہ دیکھیں۔

مزید جانیں

مرحلہ 1: کیا گیند قانونی اور درست جگہ پچ ہوئی؟

قانونی ایل بی ڈبلیو کے لیے گیند نو بال نہیں ہونی چاہیے، اور اس کا پچ ہونا بھی فیصلہ کن ہے۔ اگر گیند بلے باز کے آف اسٹمپ کے باہر پچ ہوئی اور وہ شاٹ کھیلنے کی کوشش کر رہا تھا تو ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جا سکتا؛ اگر گیند لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہو تو بھی ایل بی ڈبلیو مسترد ہوتا ہے۔ تاہم گیند درمیانی یا آف اسٹمپ کی لائن میں پچ ہو تو باقی شرائط پوری ہونے پر آؤٹ ممکن ہے۔

میریلیبون کرکٹ کلب کے قانون 36 میں بنیادی تصور یہ ہے کہ گیند کو بیٹ کے بجائے جسم نے روکا ہو اور اس رکاوٹ نے وکٹ بچائی ہو۔ میریلیبون کرکٹ کلب کے قانون 36 میں درج اصول کے مطابق، فیصلہ صرف پیڈ پر لگنے کی جگہ سے نہیں بلکہ گیند کے مکمل راستے سے بنتا ہے۔ ادارے کے قانون کا خلاصہ ہے: “بلے کے بجائے جسم گیند کے راستے میں رکاوٹ بنے۔”

امپائر پہلے نو بال کا امکان دیکھتا ہے، پھر گیند کے پچ ہونے کا مقام جانچتا ہے۔ یہاں ایک کم معروف نکتہ بھی ہے: گیند اگر آف اسٹمپ کے باہر پچ ہوئی، لیکن بلے باز نے شاٹ کھیلنے کی کوئی کوشش نہیں کی، تو بعض حالات میں ایل بی ڈبلیو دیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ باقی تقاضے پورے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ دفاعی انداز، چھوڑنے کی کوشش اور حقیقی شاٹ کے درمیان فرق اہم رہتا ہے۔

یہ اصول سمجھنے کے بعد اپیل کو صرف “پیڈ پر لگی یا نہیں” کے سوال تک محدود نہ کریں؛ پہلے گیند کی قانونی حیثیت لکھ کر جانچیں۔

کرکٹ پچ کا اوپر سے منظر، آف اسٹمپ اور درمیانی اسٹمپ کے سامنے گیند کے پچ ہونے کے نشانات

مرحلہ 2: کیا گیند پہلے بیٹ یا دستانے سے ٹکرائی؟

ایل بی ڈبلیو کے لیے جسم سے لگنے سے پہلے گیند کا بیٹ سے نہ ٹکرانا ضروری ہے۔ امپائر اور ڈی آر ایس اس ترتیب کو الگ زاویوں، الٹرا ایج اور سنکو میٹر جیسے شواہد سے جانچ سکتے ہیں، مگر ہر مقابلے میں دستیاب ٹیکنالوجی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اگر گیند پہلے بیٹ کے کنارے سے لگی اور فوراً پیڈ پر پہنچی، تو درست فیصلہ ناٹ آؤٹ ہوگا، چاہے گیند کا متوقع راستہ اسٹمپ سے ٹکرا رہا ہو۔

یہاں دستانے سے متعلق باریک فرق اکثر ناظرین کو الجھاتا ہے۔ اگر دستانہ بیٹ کو پکڑنے والے ہاتھ پر ہے، تو قانون اسے بیٹ کا حصہ سمجھ سکتا ہے؛ لیکن ہاتھ یا بازو کا وہ حصہ جو بیٹ سے تعلق نہیں رکھتا، جسم شمار ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، پاکستان کے بابر اعظم یا بھارت کے روہت شرما جیسے بیٹر کے دفاعی شاٹ میں گیند بیٹ کے کنارے اور فرنٹ پیڈ کے درمیان معمولی وقفے سے گزرے تو صرف ری پلے کی رفتار پر فیصلہ دینا خطرناک ہے۔

آئی سی سی کے ڈی آر ایس طریقہ کار میں پہلے گیند کے بیٹ سے رابطے کا سوال آتا ہے، پھر بال ٹریکنگ استعمال ہوتی ہے۔ اگر واضح صوتی یا بصری ثبوت موجود نہ ہو تو میدان کے امپائر کا ابتدائی فیصلہ برقرار رہ سکتا ہے۔ اس لیے ریویو لینے والی ٹیم کو صرف پیڈ کی آواز نہیں بلکہ بیٹ، دستانے اور گیند کے عین وقت کا موازنہ کرنا چاہیے۔

ڈی آر ایس اور امپائرز کال کی وضاحت

مرحلہ 3: کیا جسمانی رابطہ وکٹ کے سامنے ہوا؟

جسمانی رابطہ وکٹ کے سامنے ہونا ایل بی ڈبلیو کا مرکزی تقاضا ہے، لیکن “سامنے” کا مطلب صرف بیٹر کے پورے جسم کا اسٹمپ کے برابر ہونا نہیں۔ امپائر گیند کے رابطے کے وقت پیڈ، ٹانگ، گھٹنے یا جسم کے دوسرے حصے کی پوزیشن کو گیند کے افقی راستے اور اسٹمپ کی لائن کے ساتھ ملاتا ہے۔ اگر رابطہ مکمل طور پر آف اسٹمپ کے باہر ہو اور بلے باز نے شاٹ کھیلنے کی کوشش کی ہو تو فیصلہ ناٹ آؤٹ رہتا ہے۔

یہاں شاٹ کی نیت کا قانونی کردار بھی سامنے آتا ہے۔ دفاعی بیٹ آگے لانا، کراس بیٹ شاٹ کھیلنا، گیند کو چھوڑنا یا جسم موڑنا، ہر حرکت کا الگ مفہوم ہو سکتا ہے؛ امپائر صرف بلے باز کے بعد کے ردعمل سے نیت طے نہیں کرتا۔ میدان میں موجود امپائر کا فیصلہ اس لیے اہم ہے کہ کیمرہ بعض اوقات پاؤں کو ایک زاویے سے آف اسٹمپ کے باہر اور دوسرے زاویے سے لائن میں دکھاتا ہے۔

ڈی آر ایس میں ہاک آئی یا دوسرے منظور شدہ بال ٹریکنگ نظام رابطے کے مقام اور وکٹ تک گیند کے متوقع سفر کو الگ دکھاتے ہیں۔ “امپائرز کال” اسی وقت آ سکتی ہے جب ٹریکنگ میں گیند کا کافی حصہ اسٹمپ کو چھونے کے امکان والے حصے میں ہو، مگر مکمل یقین کی حد تک نہ پہنچے۔ آئی سی سی کے مطابق ڈی آر ایس کا مقصد میدان کے امپائر کی غلطی کو کم کرنا ہے، ہر معمولی شک کو ختم کرنا نہیں۔

عملاً بہترین سوال یہ ہے: گیند لگنے کے لمحے پر جسم کا وہ مخصوص حصہ کہاں تھا جس نے گیند روکی؟ یہی سوال مبہم اپیل کو قابلِ جانچ فیصلے میں بدل دیتا ہے۔

مزید باریک مثالیں دیکھنے سے رابطے کی لائن فوراً سمجھ آتی ہے۔

قانون کی مثالیں دیکھیں

ڈی آر ایس اسکرین پر گیند کا راستہ، پیڈ رابطہ اور اسٹمپ ٹکراؤ تین رنگوں میں نمایاں ہیں

مرحلہ 4: کیا گیند واقعی اسٹمپ سے ٹکراتی؟

بال ٹریکنگ کا آخری مرحلہ یہ بتاتا ہے کہ اگر پیڈ یا جسم رکاوٹ نہ بنتا تو گیند اسٹمپ سے ٹکراتی یا نہیں۔ اسکرین پر عام طور پر تین رنگوں کی کیفیت دیکھی جاتی ہے: گیند اسٹمپ سے ٹکرا رہی ہو تو فیصلہ برقرار رہتا ہے، واضح طور پر باہر جا رہی ہو تو ناٹ آؤٹ ہوتا ہے، اور معمولی حصہ اسٹمپ کو چھو رہا ہو تو امپائرز کال لگ سکتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل کی پیش گوئی نہیں بلکہ دستیاب ڈیٹا پر مبنی تخمینہ ہے۔

اس مرحلے میں اسپن باؤلنگ خاص طور پر مشکل بن جاتی ہے۔ شین وارن کے لیگ بریک، یاسر شاہ کی گوگلی یا روی چندرن اشون کی آف اسپن گیند رابطے کے بعد تیزی سے رخ بدل سکتی ہے، اس لیے ناظرین کو گیند کا پیڈ تک پہنچنے والا راستہ اور فرضی اسٹمپ لائن الگ سمجھنی چاہیے۔ پچ کی سختی، گیند کی رفتار، ریلیز پوائنٹ اور ٹریکنگ فریم کی معمولی تبدیلی بھی نتیجے کے امکان کو متاثر کر سکتی ہے، مگر فیصلہ منظور شدہ نظام کی مقررہ حدوں کے مطابق ہوتا ہے۔

ایک عملی معلوماتی نکتہ یہ ہے کہ “وکٹ ہٹنگ” کا سبز یا سرخ نتیجہ اکیلا کافی نہیں؛ اس سے پہلے “امپیکٹ” اور “پچنگ” کے نتائج بھی قانونی ہونے چاہئیں۔ اگر پچنگ لیگ اسٹمپ کے باہر ہو تو وکٹ ہٹنگ اسٹمپ کو دکھانے کے باوجود ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جائے گا۔ اسی طرح نو بال کا فیصلہ پہلے ہی اپیل ختم کر دیتا ہے۔

میریلیبون کرکٹ کلب کے قوانین اور آئی سی سی کے کھیلنے کے ضوابط کو ساتھ پڑھنے سے قانون اور ٹیکنالوجی کے فرق کو بہتر سمجھا جا سکتا ہے۔

کرکٹ میں نو بال اور وائڈ کا فرق

مرحلہ 5: کیا ریویو اور فیصلہ دوبارہ جانچنا چاہیے؟

ایل بی ڈبلیو ریویو لینے سے پہلے ٹیم کو تین سوالات ترتیب سے جانچنے چاہئیں: نو بال تو نہیں، بیٹ سے رابطہ تو نہیں، اور بال ٹریکنگ میں واضح فائدہ ملنے کا امکان کتنا ہے۔ ڈی آر ایس میں میدان کے امپائر کا فیصلہ، دستیاب ویڈیو ثبوت، الٹرا ایج اور بال ٹریکنگ ایک سلسلے کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ اگر ثبوت فیصلہ تبدیل کرنے کی مقررہ حد تک نہ پہنچے تو ابتدائی فیصلہ برقرار رہتا ہے۔

کپتان کے لیے سب سے قیمتی عملی نکتہ یہ ہے کہ صرف باؤلر یا وکٹ کیپر کی پرجوش اپیل پر ریویو نہ لیں۔ ریویو محدود ہوتے ہیں، اور غلط وقت پر استعمال کیا گیا موقع بعد کے اہم اوور میں دستیاب نہیں رہتا۔ پہلے ری پلے میں بیٹ اور پیڈ کے درمیان رابطہ دیکھیں، پھر پچنگ اور امپیکٹ کا جائزہ لیں؛ بال ٹریکنگ کو آخری مرحلے پر رکھیں۔

آئی سی سی کے ضابطوں میں امپائرز کال کو مکمل ناکامی نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکنالوجی نے واضح طور پر میدان کے فیصلے کو غلط ثابت نہیں کیا۔ یہی اصول شائقین کے لیے بھی ضروری ہے: ایک ہی فریم میں گیند اسٹمپ کے قریب دکھائی دینا آؤٹ کی ضمانت نہیں۔ فیصلہ ثبوت کے پورے سلسلے سے بنتا ہے، جذباتی تاثر سے نہیں۔

کھیل کے اعداد و شمار لکھنے والے تجزیہ کاروں کو بھی “ایل بی ڈبلیو اپیل” اور “ایل بی ڈبلیو آؤٹ” الگ درج کرنا چاہیے، کیونکہ کامیاب اپیل کی شرح باؤلر کی اصل کارکردگی اور امپائرنگ کے رجحان کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

حتمی جانچ کے لیے یہ مختصر فہرست محفوظ رکھیں:

  1. نو بال کا پاؤں اور فرنٹ فٹ دیکھیں۔
  2. بیٹ، دستانے اور پیڈ کے رابطے کی ترتیب دیکھیں۔
  3. پچنگ کی لائن اور شاٹ کی کوشش نوٹ کریں۔
  4. امپیکٹ کو وکٹ کے سامنے یا باہر رکھیں۔
  5. بال ٹریکنگ میں وکٹ ہٹنگ اور امپائرز کال الگ سمجھیں۔

مرحلہ 6: عام غلطیوں کا حل کیا ہے؟

ایل بی ڈبلیو کے بارے میں عام غلطی یہ ہے کہ ہر پیڈ لگنے کو آؤٹ سمجھ لیا جائے، حالانکہ نو بال، لیگ اسٹمپ کے باہر پچنگ، پہلے بیٹ سے رابطہ اور آف اسٹمپ کے باہر شاٹ کی کوشش فیصلہ بدل سکتے ہیں۔ دوسری غلطی “امپیکٹ” اور “وکٹ ہٹنگ” کو ایک ہی چیز سمجھنا ہے؛ گیند اسٹمپ کی طرف جا سکتی ہے، مگر جسم سے ٹکرانے کی جگہ قانونی شرائط پوری نہ کرے۔ تیسری غلطی یہ ہے کہ ریویو میں صرف آخری بال ٹریکنگ تصویر دیکھی جائے، جبکہ ابتدائی گیند کی قانونی حیثیت پہلے جانچنا ضروری ہے۔

ایک کم معروف مگر قابلِ قدر فرق شاٹ کی کوشش سے متعلق ہے۔ اگر بیٹر گیند کو چھوڑتا ہے، تو اس کے پیڈ کی پوزیشن اور آف اسٹمپ کی لائن زیادہ اہم ہو جاتی ہے؛ لیکن اگر وہ بیٹ گھما کر گیند کھیلنے کی کوشش کرتا ہے تو قانون بعض حالات میں آف اسٹمپ کے باہر پچنگ والی گیند کو ایل بی ڈبلیو سے خارج کر دیتا ہے۔ اس لیے اسکورر، کوچ اور ناظر کو ایک ہی واقعے کی ویڈیو کو کم از کم دو رفتاروں میں دیکھنا چاہیے۔

اگر فیصلہ مشکوک ہو تو یہ خرابی دور کرنے کا طریقہ اپنائیں:

  • پہلے نو بال اور بیٹ سے رابطہ ختم کریں۔
  • پھر پچنگ اور امپیکٹ کی لائن الگ نوٹ کریں۔
  • بال ٹریکنگ میں مقررہ رنگ یا نتیجہ دیکھیں۔
  • امپائرز کال کو غلطی کے برابر نہ سمجھیں۔
  • قانون 36 کے اصل متن سے اختلاف کی وجہ ملائیں۔

کرکٹ گفتگو میں میچ جائزوں، پاکستان سپر لیگ، باؤلنگ حکمت عملی اور کھلاڑیوں کے اعداد و شمار کے ساتھ یہ قانونی نقطۂ نظر اس لیے اہم ہے کہ صرف نتیجہ نہیں، نتیجے کی وجہ بھی قابلِ فہم ہونی چاہیے۔

یہ آخری یاددہانی فیصلہ دیکھنے سے پہلے اپنی چیک لسٹ مکمل کرنے میں مدد دے گی۔

پاکستان سپر لیگ کے میچ میں بیٹر پیڈ بچاتے ہوئے، وکٹ کیپر اور امپائر فیصلہ کن لمحے میں متوجہ ہیں

خلاصہ: ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ کیسے یاد رکھیں؟

ایل بی ڈبلیو سمجھنے کا آسان طریقہ پانچ مرحلوں کا ہے: قانونی گیند، بیٹ سے پہلے جسمانی رابطہ، درست پچنگ، وکٹ کے سامنے امپیکٹ اور اسٹمپ سے متوقع ٹکراؤ۔ ان میں سے ایک بھی بنیادی شرط ناکام ہو تو آؤٹ کا فیصلہ ختم ہو سکتا ہے، جبکہ امپائرز کال معمولی یا غیر واضح بال ٹریکنگ کے وقت میدان کے فیصلے کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ کرکٹ امپائرنگ اور اسکورنگ کی رہنما

ماہر سطح پر سب سے بہتر عادت یہ ہے کہ اپیل کو ایک ہی منظر نہ سمجھیں؛ اسے نو بال، بیٹ، پچنگ، امپیکٹ اور وکٹ ہٹنگ کے پانچ الگ سوالات میں تقسیم کریں۔ یہی طریقہ بھارت، پاکستان، آسٹریلیا یا انگلینڈ کے بین الاقوامی میچوں میں یکساں طور پر کام کرتا ہے۔ قانون 36 اور آئی سی سی ڈی آر ایس ضوابط کو ساتھ پڑھنے سے تبصرے، فین مباحث اور میچ کے اہم فیصلے زیادہ درست سمجھ آتے ہیں۔

اگر آپ میچ دیکھتے ہوئے فوری فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو پہلے گیند کی قانونی حیثیت دیکھیں، پھر رابطے کی ترتیب، اور آخر میں اسٹمپ ہٹنگ؛ یہی سب سے کم خطرے والا تجزیاتی طریقہ ہے۔

اپنی کرکٹ سمجھ کو مزید منظم بنانے کے لیے یہ رہنمائی محفوظ کر لیں۔

مکمل رہنمائی پڑھیں

اکثر پوچھے گئے سوالات

سوال: کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو کیا ہوتا ہے؟

جواب: ایل بی ڈبلیو اس وقت ہوتا ہے جب گیند نو بال نہ ہو، بیٹ سے پہلے جسم سے لگے اور امپائر کے مطابق وکٹ سے ٹکراتی۔ گیند کی پچنگ، رابطے کی جگہ، شاٹ کھیلنے کی کوشش اور متوقع اسٹمپ ہٹنگ سب دیکھی جاتی ہیں۔ اگر گیند پہلے بیٹ یا بیٹ پکڑنے والے دستانے سے لگ جائے تو عام طور پر ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جاتا۔

سوال: ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ مرحلہ وار کیسے جانچیں؟

جواب: پہلے نو بال دیکھیں، پھر بیٹ سے رابطہ، پچنگ، امپیکٹ اور وکٹ ہٹنگ کو ترتیب سے جانچیں۔ گیند لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہو تو فیصلہ ختم ہو جاتا ہے، جبکہ آف اسٹمپ کے باہر پچنگ میں شاٹ کی کوشش اہم بن جاتی ہے۔ ڈی آر ایس ہو تو الٹرا ایج کے بعد بال ٹریکنگ کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

سوال: ایل بی ڈبلیو اور بولڈ میں کیا فرق ہے؟

جواب: ایل بی ڈبلیو میں جسم گیند کو روکنے کے بعد قانونی شرائط پوری ہونے پر آؤٹ دیا جاتا ہے، جبکہ بولڈ میں گیند براہ راست وکٹ گرا دیتی ہے۔ ایل بی ڈبلیو کے لیے پچنگ، امپیکٹ اور شاٹ کی کوشش جیسے اضافی تقاضے ہوتے ہیں۔ بولڈ میں گیند کا بیٹ یا جسم سے لگنا ممکن ہے، مگر آخرکار اسٹمپ کا گرنا ضروری ہے۔

سوال: اگر گیند پہلے بیٹ سے لگے تو ایل بی ڈبلیو کیوں نہیں ہوتا؟

جواب: اگر گیند جسم سے لگنے سے پہلے بیٹ یا بیٹ پکڑنے والے دستانے سے لگ جائے تو ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جاتا۔ یہ اصول اس لیے ہے کہ قانون بیٹ سے کھیلے گئے شاٹ اور جسم سے روکی گئی گیند میں فرق کرتا ہے۔ واضح نہ ہونے کی صورت میں ڈی آر ایس الٹرا ایج، سنکو میٹر یا دستیاب ویڈیو شواہد سے مدد لیتا ہے۔

سوال: امپائرز کال ایل بی ڈبلیو میں کیا معنی رکھتی ہے؟

جواب: امپائرز کال کا مطلب ہے کہ بال ٹریکنگ نے میدان کے امپائر کے فیصلے کو واضح طور پر غلط ثابت نہیں کیا۔ یہ عموماً امپیکٹ یا وکٹ ہٹنگ کے معمولی حصے میں دکھائی دیتی ہے، جہاں ٹیکنالوجی کا نتیجہ مکمل یقین کے بجائے مقررہ حد پر مبنی ہوتا ہے۔ اس صورت میں ریویو ضائع ہو سکتا ہے، مگر میدان کا ابتدائی فیصلہ برقرار رہتا ہے۔

سوال: نو بال پر ایل بی ڈبلیو کیوں نہیں دیا جاتا؟

جواب: نو بال پر ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جا سکتا، چاہے گیند پیڈ سے لگ کر اسٹمپ کو ٹکراتی دکھائی دے۔ امپائر پہلے فرنٹ فٹ یا دیگر نو بال شرائط دیکھتا ہے، کیونکہ غیر قانونی گیند پر اس مخصوص آؤٹ کی اجازت نہیں۔ البتہ نو بال کے نتیجے میں رن آؤٹ، کیچ یا دوسرے قابلِ اطلاق طریقے الگ قوانین کے تحت ممکن ہو سکتے ہیں۔

سوال: ایل بی ڈبلیو اپیل مسترد ہو جائے تو کیا کیا جائے؟

جواب: مسترد اپیل کے بعد ٹیم کو پہلے بیٹ سے رابطہ، نو بال اور گیند کی پچنگ چیک کرنی چاہیے، پھر ریویو کی افادیت کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ صرف پیڈ پر لگنے کی آواز ریویو کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ اگر بال ٹریکنگ میں امپیکٹ باہر ہو، پچنگ لیگ اسٹمپ کے باہر ہو یا بیٹ کا واضح رابطہ ہو تو ریویو ضائع کرنے کے بجائے اسے محفوظ رکھنا بہتر ہوتا ہے۔

حتمی قانونی خلاصہ پڑھنے کے بعد اپنی اگلی میچ بحث میں ہر اپیل کو انہی پانچ شرائط کے ذریعے جانچیں۔

کرکٹ گفتگو سے مزید سیکھیں

§

اس کہانی کو دریافت کرنے کا شکریہ

❦

کرکٹ گفتگو · The Archive

متعلقہ مضامین