مواد پر جائیں مواد پر جائیں
دخل

کرکٹ فیلڈنگ کے اندر: 7 پوزیشنز کی حکمت عملی

کرکٹ میں فیلڈنگ پوزیشنز گیند، بلے باز، پچ اور میچ کے مرحلے کے مطابق تبدیل ہوتی ہیں؛ سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ وکٹ، فائن لیگ اور باؤنڈری ہر جگہ الگ ذمہ داری ادا کرتی ہے۔ پاکستان، بھارت، آسٹریلیا اور ان...

29 اکتوبر، 2026 5 min read
کرکٹ فیلڈنگ کے اندر: 7 پوزیشنز کی حکمت عملی
❦

کرکٹ فیلڈنگ کے اندر: 7 پوزیشنز کی حکمت عملی

کرکٹ میں فیلڈنگ پوزیشنز گیند، بلے باز، پچ اور میچ کے مرحلے کے مطابق تبدیل ہوتی ہیں؛ سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ وکٹ، فائن لیگ اور باؤنڈری ہر جگہ الگ ذمہ داری ادا کرتی ہے۔ پاکستان، بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ جیسے بڑے کرکٹ ممالک میں کپتان عموماً فیلڈ سیٹ کرتے وقت بلے باز کے مضبوط شاٹس، گیند کی رفتار اور میدان کے سائز کو دیکھتے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں تین یا چار سلپ فیلڈرز رکھے جا سکتے ہیں، جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں پاور پلے کے دوران زیادہ سے زیادہ دو فیلڈرز دائرے سے باہر رہ سکتے ہیں۔ آئی سی سی کے قوانین اور ایم سی سی قوانینِ کرکٹ فیلڈنگ کی بنیادی حدود واضح کرتے ہیں۔ عملی اصول یہ ہے کہ پوزیشن کا نام یاد کرنے کے بجائے گیند کے ممکنہ راستے، بلے باز کے پسندیدہ اسٹروک اور اگلی گیند کے منصوبے کو سمجھیں۔

Aztec Gems Deluxe · Free demo

روشن اسٹیڈیم میں کپتان سلپ، کور اور باؤنڈری فیلڈرز کو اشاروں سے ترتیب دے رہا ہے

کرکٹ گفتگو میں فیلڈنگ پوزیشنز کو صرف نقشے پر موجود نام نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ ایک قدم دائیں یا بائیں کھڑا فیلڈر پوری اننگز کا رخ بدل سکتا ہے۔ درست جگہ وہ ہے جہاں ممکنہ کیچ، رن روکنے اور سنگل کو ڈاٹ بال میں بدلنے کا فائدہ خطرے سے زیادہ ہو۔ اس لیے نیچے دی گئی حکمت عملی ہر فارمیٹ میں یکساں طور پر لاگو نہیں ہوتی؛ ٹیسٹ میں وکٹ لینے کا دباؤ نمایاں ہوتا ہے، ون ڈے میں رن ریٹ اور ٹی ٹوئنٹی میں ہر گیند کی قیمت اہم ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، بابر اعظم کے خلاف کور کے اندر تیز فیلڈر رکھنا ڈرائیو روک سکتا ہے، مگر یارکر کے سامنے یہی فیلڈر کم مفید ہو سکتا ہے۔ فیلڈر کی رفتار، پھینکنے کا بازو، گیند کی نمی اور پچ کی رفتار بھی فیصلہ بدلتے ہیں۔ مزید بنیادی معلومات کے لیے کرکٹ کی بنیادی اصطلاحات ملاحظہ کریں۔

مزید عملی رہنمائی کے لیے یہ خلاصہ دیکھیں۔

مزید جانیں

غلط فہمی ۱: کیا سلپ صرف تیز گیند باز کے لیے ہوتی ہے؟

نہیں، سلپ فیلڈنگ پوزیشن صرف تیز گیند بازی تک محدود نہیں؛ سوئنگ، سیَم، آف اسپن اور بعض اوقات لیگ اسپن کے خلاف بھی سلپ اہم ہو سکتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد بلے کے بیرونی کنارے سے نکلنے والی گیند پکڑنا ہے، اس لیے فیلڈر کی جگہ گیند کی رفتار، زاویے اور بلے باز کے اسٹروک کے مطابق بدلتی ہے۔

سلپ عموماً وکٹ کیپر کے برابر ترچھے زاویے پر کھڑی ہوتی ہے، جبکہ دوسری اور تیسری سلپ مزید چوڑی جگہ سنبھالتی ہیں۔ جیمز اینڈرسن کی سوئنگ کے دوران انگلینڈ اکثر پہلی سلپ کو نسبتاً قریب رکھتا تھا، کیونکہ کنارے کی رفتار کم ہو سکتی ہے؛ اس کے برعکس مچل اسٹارک جیسے تیز باؤلر کے خلاف موٹا ایج گہری سلپ یا گلی کی طرف جا سکتا ہے۔ اسپنر کے خلاف سلپ کا فاصلہ عموماً کم رکھا جاتا ہے، کیونکہ گیند کی رفتار کم ہوتی ہے اور بلے کا کنارہ جلدی کیچ بن سکتا ہے۔ ایک اہم عملی نکتہ یہ ہے کہ سلپ فیلڈر کو صرف گیند نہیں دیکھنی چاہیے؛ اسے بلے کے زاویے اور بلے باز کے فرنٹ فٹ کو بھی پڑھنا چاہیے۔ اگر گیند مسلسل جسم سے باہر جا رہی ہو تو سلپ بڑھانے کے بجائے گلی یا پوائنٹ کو ایڈجسٹ کرنا زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔

  • پہلی سلپ: وکٹ کیپر کے قریب، موٹے کنارے کے لیے۔
  • دوسری سلپ: زیادہ چوڑی، تیز کنارے اور ڈائیو کے لیے۔
  • تیسری سلپ: وسیع زاویے اور حملہ آور فیلڈ کے لیے۔
  • گلی: سلپ اور پوائنٹ کے درمیان کٹے ہوئے کنارے کے لیے۔

غلط فہمی ۲: کیا کور ہمیشہ بہترین فیلڈنگ پوزیشن ہے؟

کور ہر بلے باز کے خلاف بہترین جگہ نہیں؛ یہ خاص طور پر آف سائیڈ ڈرائیو، کور ڈرائیو اور تیز سنگل روکنے کے لیے مؤثر ہے۔ اگر بلے باز فلیٹ بیٹ شاٹ یا لیگ سائیڈ فلک زیادہ کھیلتا ہو تو کور میں کھڑا فیلڈر کم گیندیں روک سکتا ہے، جبکہ مڈ وکٹ یا اسکوائر لیگ زیادہ اہم بن جاتے ہیں۔

کور پوزیشن عام طور پر پوائنٹ اور مڈ آف کے درمیان ہوتی ہے، مگر اس کی گہرائی میچ کے حالات بدل دیتی ہے۔ ٹیسٹ میچ میں اندرونی کور فیلڈر ایک رن بچانے کے ساتھ دباؤ بناتا ہے، جبکہ ایک روزہ میچ کے آخری اوورز میں یہی فیلڈر باؤنڈری لائن کے قریب جا سکتا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی میں کور کے سامنے فیلڈر رکھنے کا مقصد صرف چوکا روکنا نہیں؛ گیند کو فوراً واپس پھینک کر دوسرا رن روکنا بھی ہے۔ یہاں ایک نظرانداز شدہ فرق سامنے آتا ہے: دائیں ہاتھ کے بلے باز کے خلاف کور کا زاویہ اور بائیں ہاتھ کے بلے باز کے خلاف کور کا زاویہ ایک جیسا نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ گیند کا متوقع راستہ بدل جاتا ہے۔ کپتان کو پچ کے مردہ حصے، گیند کی رفتار اور بلے باز کے پچھلے دو اوورز کے شاٹس دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے، نہ کہ صرف روایتی فیلڈ نقشے کی نقل۔

سبز کرکٹ میدان میں کور فیلڈر ڈرائیو روکنے کے لیے گھٹنوں کے بل تیار کھڑا ہے

غلط فہمی ۳: کیا باؤنڈری فیلڈر ہمیشہ لائن کے بالکل قریب کھڑا ہونا چاہیے؟

یہ بات مکمل طور پر غلط ہے، کیونکہ باؤنڈری سے چند قدم اندر کھڑا فیلڈر بعض حالات میں زیادہ رنز بچا سکتا ہے۔ اندرونی پوزیشن اسے کٹ، مس فیلڈ اور دو رنز روکنے کا موقع دیتی ہے، جبکہ لائن سے چپکی جگہ صرف واضح باؤنڈری یا کیچ کے لیے بہتر ہوتی ہے۔ فیلڈر کا مقام شاٹ کے امکان اور اوور کی صورتحال کے مطابق طے ہونا چاہیے۔

اگر آخری اوور میں چھکا روکنا اولین مقصد ہو تو باؤنڈری لائن کے قریب کھڑا ہونا ضروری ہے، مگر پاور پلے کے بعد درمیانی اوورز میں دو رنز روکنے کے لیے پانچ سے دس میٹر اندر آنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ یہ فاصلہ مقرر نہیں؛ میدان کی جسامت، فیلڈر کی رفتار اور بلے باز کی طاقت اسے بدلتے ہیں۔ مثال کے طور پر، لاہور کے قذافی اسٹیڈیم اور آسٹریلیا کے بڑے میدان میں ایک ہی باؤنڈری حکمت عملی مؤثر نہیں ہوگی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مختلف میدانوں میں حدود اور پچ کے زاویے بدلتے ہیں، اس لیے کپتان کو پہلے وارم اَپ کے دوران باؤنڈری کا اندازہ لینا چاہیے۔ ایک مفید عملی طریقہ یہ ہے کہ فیلڈر اپنی جگہ سے وکٹ کیپر تک تھرو کی رفتار بھی دیکھے؛ اگر واپسی تھرو کمزور ہو تو فیلڈر کو اندر رکھنا باؤنڈری روکنے سے زیادہ رنز بچا سکتا ہے۔

  • چھکے کا خطرہ: فیلڈر لائن کے قریب۔
  • دو رنز کا خطرہ: فیلڈر چند قدم اندر۔
  • کمزور بازو: اندرونی پوزیشن زیادہ محفوظ۔
  • آخری اوور: کیچ اور باؤنڈری دونوں کے لیے زاویہ پہلے طے کریں۔

اصل میں کیا کام کرتا ہے؟

مؤثر فیلڈنگ پوزیشنز وہ ہیں جو بلے باز کے متوقع شاٹ، گیند کے مرحلے اور رن کی قیمت کو ایک ساتھ دیکھتی ہیں۔ صرف نام یاد کرنا کافی نہیں؛ کپتان کو ہر اوور سے پہلے تین سوال پوچھنے چاہییں: وکٹ لینے کا امکان کہاں ہے، آسان سنگل کہاں بن رہا ہے، اور باؤنڈری روکنے کے لیے کون سا فیلڈر سب سے تیز ہے؟

پہلا اصول گیند کی لائن ہے۔ آف اسٹمپ سے باہر اچھی لینتھ ہو تو سلپ، گلی، پوائنٹ اور کور کا مجموعہ بنایا جا سکتا ہے؛ لیگ اسٹمپ یا شارٹ لینتھ ہو تو اسکوائر لیگ، مڈ وکٹ اور فائن لیگ زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔ دوسرا اصول بلے باز کا ڈیٹا ہے۔ آئی سی سی کی سرکاری درجہ بندی اور اعداد و شمار سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کوئی بلے باز کور میں زیادہ رنز بناتا ہے یا فائن لیگ کی طرف، لیکن صرف اوسط کافی نہیں؛ حالیہ دس گیندوں میں اس کے شاٹس بھی دیکھنے چاہییں۔ تیسرا اصول فیلڈر کی صلاحیت ہے: بہترین مقام وہ نہیں جہاں نظریاتی طور پر کیچ آتا ہو، بلکہ وہ ہے جہاں موجود فیلڈر وقت پر پہنچ سکے۔ معلوماتی برتری یہاں یہ ہے کہ فیلڈ سیٹ کرتے وقت تھرو کی سمت بھی شمار کریں؛ وکٹ کے دائیں طرف سے آنے والی گیند پر دائیں ہاتھ کا فیلڈر اکثر ایک اضافی قدم اور بہتر زاویہ حاصل کرتا ہے۔

یہ ترتیب میچ سے پہلے نوٹ کر لیں:

  1. پہلے گیند باز کی لائن اور لینتھ طے کریں۔
  2. پھر بلے باز کا مضبوط اور کمزور شاٹ دیکھیں۔
  3. اس کے بعد کیچ، سنگل اور باؤنڈری کی ترجیح مقرر کریں۔
  4. آخر میں فیلڈر کی رفتار، بازو اور تھرو کے زاویے کے مطابق جگہ بدلیں۔

اپنی فیلڈنگ حکمت عملی کو مزید منظم کرنے کے لیے یہ رہنمائی استعمال کریں۔

مزید جانیں

آف سائیڈ کی بنیادی پوزیشنز

پوائنٹ، بیک ورڈ پوائنٹ، کور، ایکسٹرا کور اور مڈ آف آف سائیڈ کی اہم پوزیشنز ہیں۔ پوائنٹ کٹ اور مربع شاٹس روکتا ہے، بیک ورڈ پوائنٹ تیز کٹ کے لیے گہرا رکھا جا سکتا ہے، جبکہ ایکسٹرا کور ڈرائیو کے راستے کو بند کرتا ہے۔ مڈ آف عموماً سنگل روکنے، ڈرائیو پر دباؤ ڈالنے اور باؤلر کو واپس کیچ دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

لیگ سائیڈ کی بنیادی پوزیشنز

مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ، شارٹ فائن لیگ، فائن لیگ اور لانگ آن لیگ سائیڈ کے بڑے حصے سنبھالتے ہیں۔ مڈ وکٹ فلک اور ہُک کے خلاف اہم ہے، اسکوائر لیگ پل شاٹ روکتی ہے، جبکہ شارٹ فائن لیگ پیڈ سے لگنے والی گیند، گلانس اور نرم ہاتھ کے شاٹس کے لیے خطرناک جگہ بن سکتی ہے۔ فائن لیگ کو اندر یا باہر رکھنے کا فیصلہ گیند کی رفتار، فیلڈر کی رفتار اور باؤنڈری کی چوڑائی سے جڑا ہے۔

وکٹ کے پیچھے کی پوزیشنز

وکٹ کیپر کے علاوہ شارٹ تھرڈ، بیک ورڈ پوائنٹ کے قریب گہرا فیلڈر اور فائن لیگ وکٹ کے پیچھے کے راستے بند کرتے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی میں شارٹ تھرڈ اکثر تیز سنگل روکنے کے لیے اندر رہتا ہے، مگر فائن لیگ کو باؤنڈری پر رکھنے سے اوور تھرو اور کنارے کے چوکے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔ وکٹ کیپر کو فیلڈرز سے مستقل اشارہ رکھنا چاہیے، کیونکہ گیند کی سمت کا آخری فیصلہ اکثر اسی کی نظر سے واضح ہوتا ہے۔

ٹی ٹوئنٹی میچ میں شارٹ تھرڈ اور فائن لیگ فیلڈرز وکٹ کے پیچھے شاٹ کا انتظار کر رہے ہیں

فارمیٹ کے مطابق فیلڈنگ کیسے بدلے؟

فارمیٹ کے مطابق فیلڈنگ اس لیے بدلتی ہے کہ ٹیسٹ میں وکٹ کی قیمت طویل دباؤ سے جڑی ہے، ون ڈے میں اوورز اور رن ریٹ کا توازن اہم ہے، جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں محدود گیندوں کے باعث باؤنڈری روکنا اور فوری کیچ دونوں ضروری ہیں۔ ایک ہی پوزیشن تینوں فارمیٹس میں مختلف گہرائی اور زاویے سے استعمال ہوتی ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں نئی گیند کے ابتدائی اوورز کے دوران دو یا تین سلپ، گلی اور شارٹ مڈ وکٹ حملہ آور منصوبہ بن سکتے ہیں۔ ون ڈے میں پہلے دس اوورز کے دائرے کی پابندی، درمیانی اوورز میں اسپن کے خلاف مڈ وکٹ اور لانگ آن، اور آخری دس اوورز میں باؤنڈری فیلڈرز زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی کے پاور پلے میں صرف دو فیلڈرز دائرے سے باہر رہ سکتے ہیں، اس لیے کپتان کو اندرونی فیلڈرز کی رفتار پر انحصار کرنا پڑتا ہے؛ پاور پلے ختم ہونے کے بعد عموماً پانچ فیلڈرز باہر بھیجے جا سکتے ہیں، مگر مخصوص حالات اور قوانین کی جانچ ضروری ہے۔ ایم سی سی کے قوانین میں فیلڈنگ پابندیوں کے علاوہ اوور ریٹ اور غیر قانونی فیلڈ سیٹ سے متعلق ضوابط بھی دیکھنے چاہییں۔ قولاً، “قانونی فیلڈ وہی ہے جو مقررہ حدود اور کھلاڑیوں کی تعداد کی پابندی کرے”، اس لیے حکمت عملی سے پہلے قانون کی تازہ شق دیکھنا ضروری ہے۔

درمیانی اوورز کے لیے اسپن کے خلاف بیٹنگ حکمت عملی بھی مددگار ہو سکتی ہے، کیونکہ فیلڈنگ ہمیشہ باؤلنگ منصوبے کا جواب ہوتی ہے۔

کیا نظرانداز کرنا چاہیے؟

فیلڈنگ میں سب سے زیادہ نقصان اس وقت ہوتا ہے جب کپتان روایتی نقشے، بڑے نام یا ایک کامیاب کیچ کی یاد پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے۔ گیند کی رفتار، باؤنڈری کا سائز، ہوا، پچ کی نمی اور فیلڈر کا اصل ردعمل نظرانداز نہیں کرنا چاہیے؛ یہی عوامل ایک ہی پوزیشن کو فائدہ یا کمزوری بنا دیتے ہیں۔

کچھ باتیں خاص طور پر چھوڑ دینی چاہییں:

  • ہر بلے باز کے خلاف ایک ہی فیلڈ استعمال کرنا۔
  • باؤنڈری فیلڈر کو صرف لائن کے ساتھ کھڑا کرنا۔
  • فیلڈر کی تھرو اور ڈائیو کی صلاحیت نہ جانچنا۔
  • اسکور، باقی اوورز اور وکٹوں کی تعداد کو نظرانداز کرنا۔
  • ایک چوکے کے بعد فوراً پوری فیلڈ بدل دینا۔
  • وکٹ کیپر اور باؤلر کے اشاروں کو الگ الگ رکھنا۔

کپتان کو کم از کم ہر دو اوورز بعد فیلڈ کا مختصر جائزہ لینا چاہیے، مگر ہر گیند پر غیر ضروری تبدیلی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر ایک بلے باز مسلسل کور کے ذریعے سنگل لے رہا ہے تو کور فیلڈر کو صرف چوکا روکنے کے لیے پیچھے کرنا درست نہیں؛ پہلے سنگل کا راستہ بند کریں، پھر باؤنڈری کا خطرہ دیکھیں۔ اسی طرح، اگر مڈ وکٹ پر فیلڈر بہت گہرا ہو اور بلے باز دو آسان رنز لے رہا ہو تو ایک قدم اندر آنا زیادہ قیمتی ہو سکتا ہے۔ کرکٹ گفتگو کی تجزیاتی کوریج میں یہی فرق نمایاں کیا جاتا ہے: فیلڈنگ پوزیشن کا اصل فائدہ گیند روکنے سے پہلے رن کے فیصلے پر اثر ڈالنا ہے۔

اپنے میچ کے لیے آخری چیک لسٹ محفوظ کرنے کا یہ موقع ضائع نہ کریں۔

مزید جانیں

سات اہم فیلڈنگ پوزیشنز کا فوری خلاصہ

فیلڈنگ پوزیشنز یاد رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انہیں ممکنہ شاٹ کے ساتھ جوڑا جائے، صرف میدان کے نقشے کے ساتھ نہیں۔ سلپ بیرونی کنارے کے لیے، گلی کٹے ہوئے کنارے کے لیے، پوائنٹ کٹ کے لیے، کور ڈرائیو کے لیے، مڈ وکٹ فلک اور پل کے لیے، فائن لیگ وکٹ کے پیچھے کے شاٹس کے لیے، اور لانگ آن اونچے لیگ سائیڈ شاٹس کے لیے نمایاں ہے۔

  1. سلپ: کنارے سے آنے والے کیچ۔
  2. گلی: وسیع بیرونی کنارے اور کٹ۔
  3. پوائنٹ: مربع کٹ اور تیز سنگل۔
  4. کور: آف سائیڈ ڈرائیو۔
  5. مڈ وکٹ: فلک، پل اور ہلکا ہینڈل۔
  6. فائن لیگ: گلانس، پیڈ اور وکٹ کے پیچھے کا راستہ۔
  7. لانگ آن: بلند لیگ سائیڈ شاٹ اور چھکا۔

اختتامی اصول سادہ ہے: پہلے خطرناک شاٹ کی شناخت کریں، پھر اس شاٹ کا راستہ بند کریں، اور آخر میں باؤنڈری کے بجائے متوقع رنز کی قیمت دیکھیں۔ اچھی فیلڈنگ وہ نہیں جو صرف خوبصورت کیچ دکھائے؛ اچھی فیلڈنگ وہ ہے جو بلے باز کو کم فیصد شاٹ کھیلنے پر مجبور کرے۔

حتمی فیلڈنگ منصوبے اور کرکٹ تجزیے کے لیے کرکٹ گفتگو کے تازہ مضامین دیکھیں۔

مزید جانیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کرکٹ میں فیلڈنگ پوزیشنز کیا ہوتی ہیں؟

جواب: کرکٹ میں فیلڈنگ پوزیشنز میدان کے وہ مخصوص مقامات ہیں جہاں کھلاڑی گیند روکنے، کیچ لینے یا رنز کم کرنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ وکٹ، فائن لیگ اور لانگ آن عام پوزیشنز ہیں۔ ہر مقام کا انتخاب باؤلر کی لائن، بلے باز کے شاٹ اور میچ کے فارمیٹ کے مطابق کیا جاتا ہے۔

سوال: سلپ فیلڈر کہاں کھڑا ہوتا ہے؟

جواب: سلپ فیلڈر وکٹ کیپر کے ترچھے آگے کھڑا ہوتا ہے تاکہ بلے کے بیرونی کنارے سے نکلنے والی گیند پکڑ سکے۔ پہلی سلپ عموماً کیپر کے قریب ہوتی ہے، جبکہ دوسری اور تیسری سلپ زیادہ چوڑا زاویہ سنبھالتی ہیں۔ سوئنگ، سیَم یا اسپن کے مطابق ان کا فاصلہ چند قدم آگے یا پیچھے کیا جا سکتا ہے۔

سوال: پوائنٹ اور کور فیلڈر میں کیا فرق ہے؟

جواب: پوائنٹ کٹ، مربع شاٹ اور تیز سنگل روکتا ہے، جبکہ کور آف سائیڈ ڈرائیو اور کور ڈرائیو کے راستے کو بند کرتا ہے۔ پوائنٹ عموماً وکٹ کے زیادہ مربع حصے میں ہوتا ہے اور کور مڈ آف کی طرف ترچھا رہتا ہے۔ بلے باز کے مضبوط شاٹ کے مطابق دونوں میں سے کسی ایک کو اندر یا پیچھے کیا جا سکتا ہے۔

سوال: ٹی ٹوئنٹی میں فیلڈنگ کیسے ترتیب دینی چاہیے؟

جواب: ٹی ٹوئنٹی میں پہلے پاور پلے کے دوران دو فیلڈرز دائرے سے باہر رہ سکتے ہیں، اس لیے اندرونی فیلڈرز کی رفتار اہم ہوتی ہے۔ پاور پلے کے بعد باؤنڈری، ڈیتھ اوورز اور بلے باز کے پسندیدہ شاٹس کے مطابق فیلڈ بدلی جاتی ہے۔ آخری اوورز میں یارکر کے خلاف کور، لانگ آف، لانگ آن اور فائن لیگ کی گہرائی خاص اہمیت رکھتی ہے۔

سوال: باؤنڈری فیلڈر کو لائن سے کتنی دور کھڑا ہونا چاہیے؟

جواب: باؤنڈری فیلڈر کا فاصلہ میدان، بلے باز، اوور کی صورتحال اور مطلوبہ رن روکنے کے مطابق طے ہونا چاہیے، اس کی کوئی ایک مقررہ مقدار نہیں۔ چھکا روکنا ہو تو لائن کے قریب، جبکہ دو رنز روکنے ہوں تو چند قدم اندر کھڑا ہونا بہتر ہے۔ بڑے میدان میں اندرونی پوزیشن اکثر تیز واپسی تھرو کے باعث زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

سوال: فیلڈنگ پوزیشن غلط ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے؟

جواب: اگلی گیند سے پہلے باؤلر، وکٹ کیپر اور متعلقہ فیلڈر کو واضح اشارے سے پوزیشن درست کرنی چاہیے۔ اگر ایک ہی جگہ سے مسلسل سنگل بن رہا ہو تو فیلڈر کو ایک یا دو قدم اندر لائیں، مگر باؤنڈری کا خطرہ بھی ساتھ دیکھیں۔ غلطی کے بعد پوری فیلڈ بدلنے کے بجائے پہلے اس مخصوص راستے کو بند کرنا زیادہ محفوظ حکمت عملی ہے۔

سوال: کیا فیلڈنگ پوزیشنز ہر فارمیٹ میں ایک جیسی رہتی ہیں؟

جواب: بنیادی نام ایک جیسے رہتے ہیں، لیکن ان کی گہرائی، زاویہ اور تعداد ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں بدلتی ہے۔ ٹیسٹ میں سلپ اور گلی حملہ آور ہو سکتی ہیں، ون ڈے میں رن ریٹ کے مطابق توازن رکھا جاتا ہے، جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں باؤنڈری اور پاور پلے کی پابندیاں فیصلہ کن ہوتی ہیں۔ اس لیے ایک ہی نقشہ ہر فارمیٹ کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

§

اس کہانی کو دریافت کرنے کا شکریہ

❦

کرکٹ گفتگو · The Archive

متعلقہ مضامین